یہ بات ہے سن 2011 کی جب میرے لاہور میں چار سال مکمل ہونے والے تھے – میرے ماں باپ نے بہاولپور سے بھیجا تھا گورنمنٹ کالج لاہور پڑھنے اور مجھے قسمت لے گئی پینجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ کمیونیکیشن اسڈیز میں جہاں سے میں نے ایم -ایس فلم اینڈ ٹی وی میں کیا
چودہ اگست کی بات چل نکلی ہے تو میں چودہ اگست 2011 کو صبح اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر اندرون لاہور کا رخ کیا جہاں پر ناشتہ کرنے کے بعد میں نے کچھ تصاویر بناہیں جو کہ اپکو دیکھانی ضروری ہیں ۔



مینار پاکستان کا منظر قابل دید تھا – رات بارش ہوئی تھی اور مینار پاکستان کا عکس پانی میں نمایاں تھا اور پرانے پاکستان کی اچھی بات یہ تھی کہ اس وقت لاہور میٹرو بس سے پاک تھا اور مینار پاکستان کو دور دور سے دیکھا جا سکتا تھا – چلیں چھوڑیں بھلا جگاڑی کا کیا واسطہ سیاست سے – اپکو ایک منظر دیکھاتا ہوں جو کہ پرانے پاکستان کے وقت لیا تھا- جب سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا

اس مینار کے نیچے پولیس والے نے ایک جوڑے کو پکڑ لیا – دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے بعد میں پتہ چلا دونوں میاں بیوی ہیں ۔ گجرانوالہ سے آئے تھے – اچھا ہوا نکاح نامہ لائے تھے ورنہ پولیس کی دیہاڑی بن جانی تھی اور مینار پاکستان خاموش رہا تھا ۔ جو قوم گونگی ہو اس کے مینار کیا بولیں گے – بھائی صاحب ہمارے پرانے پاکستان میں رشوت ٹھیک ٹھاک ہوتی تھی کیا آپ کے نئے پاکستان میں سب اچھا ہے ؟ یہ بھی بتا دیں کہ علامہ اقبال صاحب کا مزار پرانے پاکستان میں آئے گا یا نئے میں ؟ چلو رہنے دو – جس کو یہ نہ پتہ ہو کہ اس کا ووٹ کس پولنگ اسٹیشن میں تھا اس سے یہ سوال پوچھنا جرم ہے اور میں ایسے جرم کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا- چلیں یہ تصویر دیکھ لیں پھر اگے چلتے ہیں –

پرانے پاکستان میں بھی اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا – یہ برا سلوک کون کرتا ہے مجھے علم نہیں مگر ہماری ایک سکھ بھائی سے ملاقات ہوئی اس نے خوب عزت کی اور میں نے ایک تصویر کی فرمائش کی تو انہوں نے خوبصورت پوز دیا جو میرے کیمرے نے فٹ کر کے کیپچر کر لیا ۔ 7 سال ہو گئے سکھ بھائی کا نام بھول گیا مگر اس کی تصویر اپ دیکھ لیں۔

سچ پوچھیں تو انسان ہم اچھے ہو گئے تو مسلمان خود با خود
اچھے ہو جاہیں گے – میں زرا تصویر ڈھونڈ لوں ۔
میرے بلاگ کے بارے میں یارو رائے دیتے رہنا-
لو جی تصویر مل گئی-

مینار پاکستان نے آج سوچا ہو گا کہ نیا پاکستان مجھے اپنے حصے میں کرے گا یا پرانا پاکستان ۔مگر سننے میں آیا ہے کہ کوئی مینار پاکستان کو اپنے حصے میں شامل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ہمیں کیا اس بت سے ؟ سچ میں یہ ایک بت کے سوا کچھ نہیں
واپسی پر میں پریشان تھا کہ اب لاہور کو چھوڑ کر چلا جاوں گا مگر میں نے ایک تصویر ایسی بنائی جو آج بھی مجھے یاد کرواتی ہے کہ انسان کی عادات جانوروں اور پرندوں میں کیسے آئیں -تصویر دیکھ لیجئے گا اور خود اس کو کیپشن بھی دے دیجئے گا ۔

سچ پوچھیں تو ہم اصل والا پاکستان بیچ ائے ہیں – اب تو بس خانہ پوری ہے جو پاکستان کو بھی ایک امید دلا رہے ہیں ” جیوے جیوے پاکستان ” ۔ کیا یہ ملی نغمے ہم کو یہ درس دیتے ہیں کہ کسی بے گناہ کی بیٹی کو زندہ جلا دو۔ کیا یہ الفاط کی حد تک رہ گئے ہیں – ہم پاکستان کو حاصل کرتے – نیا اور پرانا نوٹ ہوتا ہے ملک نہیں ۔ ماں بھی بھلا کبھی پرانی ہوئی ہے – دھرتی ماں ہوتی ہے – سوچئے گا ضرور – نیا پاکستان والوں کو جشن ازادی مبارل –
میرا پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا – آمین