ایڈم پیک سے واپسی پر میرا موڈ اچھا خاصا خراب تھا کیونکہ کچھ دوستوں کی وجہ سے مجھے
ایڈم پیک کی آخری آخری سیڑھیوں سے واپس آنا پڑا تھا – وہ داستان بعد میں سناوں گا – ہمیں اب سری پادا سے واپس کولمبو جانا تھا – میں نے صبح کیمرہ پکڑا اور ہوٹل کے باہر نکلا تو ٹھنڈک تھی – میں نے جا کر جیکٹ پہنی – ہوٹل کے باہر کچھ عورتیں چائے کی پتیاں چن رہی تھیں – پہلے تو میں ان پتیوں کو محسوس کرتا رہا اور جب اس کو سونکھا تو مزہ ہی اگیا – سری لنکا میں بہت چائے کی پتی آگتی بھی ہے اور چائے تیار بھی ہوتی ہے – میں ایک ویڈیو بنا چکا ہوں چائے کی فیکٹری پر- لنک نیچے دے رہا ہوں ۔
https://www.youtube.com/watch?v=DhU6W2vbGuQ&t=2s
اس کے بعد میں کچھ تصاویر لیں سری پادا کی مقامی لوگوں کی – ہر چہرہ کچھ نہ کچھ بول رہا تھا – اس دن احساس ہوا کہ چہرے بھی بولتے ہیں – آپ کو لگ رہا ہے کہ میں لمبی لمبی چھوڑ رہا ہوں تو خود دیکھ لیجئے

یہ دونوں شاہ رخ کے فین تھے – مجھے کہنے لگے ہماری تصویر شاہ رخ کو بھیج دینا – میں اندر ہی اندر مسکرانے کے علاوہ کچھ اور کر نہیں سکتا تھا – میں نے بھی فل کنفیٹنٹ سے بولا ہاں ضرور – اب سوچتا ہوں خواب دنیا کے ہر کونے میں نرالے ہی ہوتے ہیں ۔

اس اماں کی بہت منت سماجت کی اور یہ انگلش بالکل نہیں جانتی تھی اور ہم بھی کون سے شیکسپئر کی طالب علم تھے – مجھے اماں کی تصویر لینی تھی تو میں نے اماں سے چائے کی پتی خرید لی اور اس کے بعد اماں نے کیا کمال دیکھا کیمرے کو کہ میرا کیمرا بھی اماں کی گن گانے لگا اور ایک ہی کلک پر اماں کی شاندار تصویر میرے کیمرے میں محفوظ ہو گئی ۔ کیا بولا تھا میں– تصویریں بولتی ہیں

یہ منظر کسی تعریف کا محتاج نہیں – اسکو دیکھ کر محسوس کیجئے

آخر میں سکول جاتے ہوئے بچوں کے ساتھ ایک سیلفی لی ۔

اس طرح آج کا سفر نامہ اختتام کو پہنچا
گزارش: زندگی کو ایسے جیو جیسے پہلے کوئی جیا نہیں اور مرو ایسے جیسے ہر کسی نے مرنا ہے – بوس گیم جینے تک کی ہے
میں چلا سونے – ساری رات ویب سیریز کے اسکرین پلے پر کام کرتا رہا – صبح کے 7:24 ہو رہے ہیں – جلد ملتے ہیں دوستوں – اپنا خیال رکھیں اور مجھے ہو سکے تو دعاوں میں یاد رکھیں –
میں ہوں سفر نامہ