میں جنت میں فیض کو اپنا افسانہ ” کالی شلوار ” سنانے ہی والا تھا کہ اچانک پطرس بخاری آ کر کہنے لگا ” برباد ہو گئے تم منٹو ” – میں نے غالب کی طرف دیکھا جو سو چکے تھے مجھے لگا شاید غالب کو میرا افسانہ پسند نہیں آیا ۔ جس کمرے میں ہماری محفل تھی وہاں حوروں کا آنا منع تھا

پطرس بخاری نے پھر مجھے مخاطب کیا ” مںنٹو تم برباد ہو گئے ” – میں نے پوچھا کیا ہو گیا اب پھر کو ئی مقدمہ ہو گیا کیا ؟ تو علم ہوا کہ مجھ پر دوسری فلم بن چکی ہے -پہلی فلم کا زخم ابھی بھرا نہ تھا اور یہ دوسرا صدمہ میں برداشت نہ کر سکا اور اسی وقت میں نے قلم اٹھایا اور جب مجھے پطرس نے بتایا کہ نواز الدین صدیقی تمہارا کردار کر رہا ہے تو میرے پاوں کے نیچے سے جنت نکل گئی- غالب کو پتہ چلا تو اٹھ کر بیٹھ گئے -غالب نے بہت ادب سے کہا کہ منٹو تم تو لوڑے لگ گئے – یہ لفظ غالب کے منہ سے سن کر حیران ہو گیا – غالب نے پھر کہا کہ وہ گالیوں کا بادشاہ ہے جو تمہارا کردار کر رہا ہے

– غالب نے مجھے بتایا کہ رات کو ہی مجھے ساغر صدیقی اس کی نئی ویب سیریز دیکھا رہا تھا . منٹو جو اس ویب سیریز میں دیکھایا گیا ہے اس حساب سے تمہارے سارے افسانے پاک ہیں – میں جلد نواز الدین صدیقی کو خط لکھوں گا اور اس کے لئے مجھے گالیوں کا سہارا لینا تھا تو مجھے دوزخ کا رخ کرنا پڑا مگر جلد میں نواز الدین صدیقی کو ایک کھلا خط لکھوں کا جس میں اسکو بتاوں گا کہ میں رنڈی نہیں ہوں جس کو تو نے اتنے سستے داموں خرید لیا – ادب کی ماں بہن چود کر رکھ دی ۔ ابھی یہ میرا کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے مجھے دوزخ کا راستہ دیکھا دیا اور ابھی میرا خط آنا باقی ہے
نوٹ : منٹو اتنا سستا نہیں جسکو تم ایسے بیچ دو –