میں زندگی کے اس نہج پر آپہنچا ہوں جہاں اپنے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے – زندگی کو دیمک نے یوں چاٹا کہ اب واپس پلٹنا چاہتا ہوں مگر بے بس ہوں – میں اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہوں – میں یکم مئی کو 27 سال کا ہو گیا ہوں اور 28 سال کے اندر قدم تو رکھ لیا مگر کئی سوالات کے ساتھ ۔
میں کون تھا اور کیا بن گیا ؟ بچپن کی سمجھ یہ آتی ہے کہ خواب دیکھے تھے جو کسی نے کاغذ کی کشتی میں لکھ کر سمندر میں بہا دئیے – میں شاید آزاد رہ کر کچھ بڑا کرنا چاہتا تھا مگر کسی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی میں بھنور میں پھنسا رہا – ہمیشہ نوکری سے نفرت کی مگر کئی نہ کئی لوگوں کے خیالات کی نوکری کی – مجھے اچھا کیا لگتا ہے میں نے اندھے کنوئیں کے حوالے کر
دیا اور آج عالم یہ ہے کہ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ شاید میرا وجود برف کے ساتھ بہہ بہہ جائے گا
میں کبھی حاصل اور لاحاصل کی دوڑ میں نہیں بھاگا اور مجھے اب بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو پاوں میں سوچ کے چھالے پڑنے لگتے ہیں – میرے کمرے میں میرا جسم اور میری روح دونوں بکھرے پڑے ہیں – دوستوں یہ پریشانی نہیں حیرت کا عالم ہے – میں خود کے لئے خود کو وقف کرنا چاہتا ہوں- کیا مجھے اجازت ہے ؟ زندگی بولٹ ٹرین کی طرح دوڑ رہی ہے اور میں رینگ کر نہیں چل سکتا یادوں نے مکڑی کے جالوں کا سہارا لے کر مجھ کو جھکڑ رکھا ہے – یہ ایک ایسا کرب ہے جس سے میں گزر رہا ہوں

میں اپنے جھکڑے وجود کو آزاد کرتا ہوں اور میرے مالک کا ذمہ ہے رزق دینا تو میں دنیا کے خداوں سے کوئی توقع نہیں کرتا
میری آزادی کی قیمت میری سنہری زندگی ہے – میں شادی کر کے بچے پال کر مرنے کی سکیم کو نہیں مانتا –
میری جو غلطی تھی اس کا اقرار کرتا ہوں