زندگی کا اندھا سفر – میں غلطی کا اقرار کرتا ہوں

میں زندگی کے اس نہج پر آپہنچا ہوں جہاں اپنے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے – زندگی کو دیمک نے یوں چاٹا کہ اب واپس پلٹنا چاہتا ہوں مگر بے بس ہوں – میں اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہوں – میں یکم مئی کو 27 سال کا ہو گیا ہوں اور 28 سال کے اندر قدم تو رکھ لیا مگر کئی سوالات کے ساتھ ۔

IMG_7878.JPGمیں کون تھا اور کیا بن گیا ؟ بچپن کی سمجھ یہ آتی ہے کہ خواب دیکھے تھے جو کسی نے کاغذ کی کشتی میں لکھ کر سمندر میں بہا دئیے – میں شاید آزاد رہ کر کچھ بڑا کرنا چاہتا تھا مگر کسی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی میں بھنور میں پھنسا رہا – ہمیشہ نوکری سے نفرت کی مگر کئی نہ کئی لوگوں کے خیالات کی نوکری کی – مجھے اچھا کیا لگتا ہے میں نے اندھے کنوئیں کے حوالے کر

IMG_7936.JPGدیا اور آج عالم یہ ہے کہ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ شاید میرا وجود برف کے ساتھ بہہ بہہ جائے گا
میں کبھی حاصل اور لاحاصل کی دوڑ‌ میں‌ نہیں بھاگا اور مجھے اب بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو پاوں میں سوچ کے چھالے پڑنے لگتے ہیں – میرے کمرے میں میرا جسم اور میری روح دونوں بکھرے پڑے ہیں – دوستوں یہ پریشانی نہیں حیرت کا عالم ہے – میں خود کے لئے خود کو وقف کرنا چاہتا ہوں‌- کیا مجھے اجازت ہے ؟ زندگی بولٹ ٹرین کی طرح دوڑ رہی ہے اور میں رینگ کر نہیں چل سکتا یادوں نے مکڑی کے جالوں کا سہارا لے کر مجھ کو جھکڑ رکھا ہے – یہ ایک ایسا کرب ہے جس سے میں گزر رہا ہوں

final cover.JPG
میں اپنے جھکڑے وجود کو آزاد کرتا ہوں اور میرے مالک کا ذمہ ہے رزق دینا تو میں دنیا کے خداوں سے کوئی توقع نہیں کرتا
میری آزادی کی قیمت میری سنہری زندگی ہے – میں شادی کر کے بچے پال کر مرنے کی سکیم کو نہیں مانتا –

میری جو غلطی تھی اس کا اقرار کرتا ہوں

Leave a comment