ابراہیم حیدری میں جھینگے پکڑنے کے لئے جو جال بنایا جاتا ہے وہ جاپان سے لیکر دبئی تک مشہور ہے مگر بابا یوسف اب بھی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ” کئ دن تک فاقہ رہتا ہے ” – ابراہیم حیدری کراچی کی ایک بندرگاہ ہے جہاں پر پورے پاکستان کو 45 فیصد مچھلی فراہم کی جاتی ہے – ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ لوگوں کا کاروبار ابراہیم حیدری سے جڑا ہے -افسوس دنیا بڑی ہوتی گئی مگر یوسف بابا جیسے لوگ چھوٹے ہوتے گئے- کبھی کبھی کچھ موضوعات پر الفاظ ختم ہو جاتے ہیں – دیکھئے تصویر میں پر امید آنکھیں
“صاحب درد کو میں روزانہ نوالہ نہ کھلاو تو خود رو پڑتا ہے ” اس جملے نے مجھے پاگل کر دیا
میں زندگی کے اس نہج پر آپہنچا ہوں جہاں اپنے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے – زندگی کو دیمک نے یوں چاٹا کہ اب واپس پلٹنا چاہتا ہوں مگر بے بس ہوں – میں اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہوں – میں یکم مئی کو 27 سال کا ہو گیا ہوں اور 28 سال کے اندر قدم تو رکھ لیا مگر کئی سوالات کے ساتھ ۔
میں کون تھا اور کیا بن گیا ؟ بچپن کی سمجھ یہ آتی ہے کہ خواب دیکھے تھے جو کسی نے کاغذ کی کشتی میں لکھ کر سمندر میں بہا دئیے – میں شاید آزاد رہ کر کچھ بڑا کرنا چاہتا تھا مگر کسی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی میں بھنور میں پھنسا رہا – ہمیشہ نوکری سے نفرت کی مگر کئی نہ کئی لوگوں کے خیالات کی نوکری کی – مجھے اچھا کیا لگتا ہے میں نے اندھے کنوئیں کے حوالے کر
دیا اور آج عالم یہ ہے کہ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ شاید میرا وجود برف کے ساتھ بہہ بہہ جائے گا
میں کبھی حاصل اور لاحاصل کی دوڑ میں نہیں بھاگا اور مجھے اب بھاگنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو پاوں میں سوچ کے چھالے پڑنے لگتے ہیں – میرے کمرے میں میرا جسم اور میری روح دونوں بکھرے پڑے ہیں – دوستوں یہ پریشانی نہیں حیرت کا عالم ہے – میں خود کے لئے خود کو وقف کرنا چاہتا ہوں- کیا مجھے اجازت ہے ؟ زندگی بولٹ ٹرین کی طرح دوڑ رہی ہے اور میں رینگ کر نہیں چل سکتا یادوں نے مکڑی کے جالوں کا سہارا لے کر مجھ کو جھکڑ رکھا ہے – یہ ایک ایسا کرب ہے جس سے میں گزر رہا ہوں
میں اپنے جھکڑے وجود کو آزاد کرتا ہوں اور میرے مالک کا ذمہ ہے رزق دینا تو میں دنیا کے خداوں سے کوئی توقع نہیں کرتا
میری آزادی کی قیمت میری سنہری زندگی ہے – میں شادی کر کے بچے پال کر مرنے کی سکیم کو نہیں مانتا –
میں جنت میں فیض کو اپنا افسانہ ” کالی شلوار ” سنانے ہی والا تھا کہ اچانک پطرس بخاری آ کر کہنے لگا ” برباد ہو گئے تم منٹو ” – میں نے غالب کی طرف دیکھا جو سو چکے تھے مجھے لگا شاید غالب کو میرا افسانہ پسند نہیں آیا ۔ جس کمرے میں ہماری محفل تھی وہاں حوروں کا آنا منع تھا
پطرس بخاری نے پھر مجھے مخاطب کیا ” مںنٹو تم برباد ہو گئے ” – میں نے پوچھا کیا ہو گیا اب پھر کو ئی مقدمہ ہو گیا کیا ؟ تو علم ہوا کہ مجھ پر دوسری فلم بن چکی ہے -پہلی فلم کا زخم ابھی بھرا نہ تھا اور یہ دوسرا صدمہ میں برداشت نہ کر سکا اور اسی وقت میں نے قلم اٹھایا اور جب مجھے پطرس نے بتایا کہ نواز الدین صدیقی تمہارا کردار کر رہا ہے تو میرے پاوں کے نیچے سے جنت نکل گئی- غالب کو پتہ چلا تو اٹھ کر بیٹھ گئے -غالب نے بہت ادب سے کہا کہ منٹو تم تو لوڑے لگ گئے – یہ لفظ غالب کے منہ سے سن کر حیران ہو گیا – غالب نے پھر کہا کہ وہ گالیوں کا بادشاہ ہے جو تمہارا کردار کر رہا ہے
اس منظر کے بعد تو منٹو کا خط لکھنا بنتا ہے
– غالب نے مجھے بتایا کہ رات کو ہی مجھے ساغر صدیقی اس کی نئی ویب سیریز دیکھا رہا تھا . منٹو جو اس ویب سیریز میں دیکھایا گیا ہے اس حساب سے تمہارے سارے افسانے پاک ہیں – میں جلد نواز الدین صدیقی کو خط لکھوں گا اور اس کے لئے مجھے گالیوں کا سہارا لینا تھا تو مجھے دوزخ کا رخ کرنا پڑا مگر جلد میں نواز الدین صدیقی کو ایک کھلا خط لکھوں کا جس میں اسکو بتاوں گا کہ میں رنڈی نہیں ہوں جس کو تو نے اتنے سستے داموں خرید لیا – ادب کی ماں بہن چود کر رکھ دی ۔ ابھی یہ میرا کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے مجھے دوزخ کا راستہ دیکھا دیا اور ابھی میرا خط آنا باقی ہے
ایڈم پیک سے واپسی پر میرا موڈ اچھا خاصا خراب تھا کیونکہ کچھ دوستوں کی وجہ سے مجھے
ایڈم پیک کی آخری آخری سیڑھیوں سے واپس آنا پڑا تھا – وہ داستان بعد میں سناوں گا – ہمیں اب سری پادا سے واپس کولمبو جانا تھا – میں نے صبح کیمرہ پکڑا اور ہوٹل کے باہر نکلا تو ٹھنڈک تھی – میں نے جا کر جیکٹ پہنی – ہوٹل کے باہر کچھ عورتیں چائے کی پتیاں چن رہی تھیں – پہلے تو میں ان پتیوں کو محسوس کرتا رہا اور جب اس کو سونکھا تو مزہ ہی اگیا – سری لنکا میں بہت چائے کی پتی آگتی بھی ہے اور چائے تیار بھی ہوتی ہے – میں ایک ویڈیو بنا چکا ہوں چائے کی فیکٹری پر- لنک نیچے دے رہا ہوں ۔
https://www.youtube.com/watch?v=DhU6W2vbGuQ&t=2s
اس کے بعد میں کچھ تصاویر لیں سری پادا کی مقامی لوگوں کی – ہر چہرہ کچھ نہ کچھ بول رہا تھا – اس دن احساس ہوا کہ چہرے بھی بولتے ہیں – آپ کو لگ رہا ہے کہ میں لمبی لمبی چھوڑ رہا ہوں تو خود دیکھ لیجئے
میری ہر تصویر آپ اصل حالت میں دیکھیں گے – اس میں ایڈیٹنگ کی ملاوٹ نہیں ہو گی
یہ دونوں شاہ رخ کے فین تھے – مجھے کہنے لگے ہماری تصویر شاہ رخ کو بھیج دینا – میں اندر ہی اندر مسکرانے کے علاوہ کچھ اور کر نہیں سکتا تھا – میں نے بھی فل کنفیٹنٹ سے بولا ہاں ضرور – اب سوچتا ہوں خواب دنیا کے ہر کونے میں نرالے ہی ہوتے ہیں ۔
اس اماں کی بہت منت سماجت کی اور یہ انگلش بالکل نہیں جانتی تھی اور ہم بھی کون سے شیکسپئر کی طالب علم تھے – مجھے اماں کی تصویر لینی تھی تو میں نے اماں سے چائے کی پتی خرید لی اور اس کے بعد اماں نے کیا کمال دیکھا کیمرے کو کہ میرا کیمرا بھی اماں کی گن گانے لگا اور ایک ہی کلک پر اماں کی شاندار تصویر میرے کیمرے میں محفوظ ہو گئی ۔ کیا بولا تھا میں– تصویریں بولتی ہیں
یہ منظر کسی تعریف کا محتاج نہیں – اسکو دیکھ کر محسوس کیجئے
آخر میں سکول جاتے ہوئے بچوں کے ساتھ ایک سیلفی لی ۔
اس طرح آج کا سفر نامہ اختتام کو پہنچا
گزارش: زندگی کو ایسے جیو جیسے پہلے کوئی جیا نہیں اور مرو ایسے جیسے ہر کسی نے مرنا ہے – بوس گیم جینے تک کی ہے
میں چلا سونے – ساری رات ویب سیریز کے اسکرین پلے پر کام کرتا رہا – صبح کے 7:24 ہو رہے ہیں – جلد ملتے ہیں دوستوں – اپنا خیال رکھیں اور مجھے ہو سکے تو دعاوں میں یاد رکھیں –
یہ بات ہے سن 2011 کی جب میرے لاہور میں چار سال مکمل ہونے والے تھے – میرے ماں باپ نے بہاولپور سے بھیجا تھا گورنمنٹ کالج لاہور پڑھنے اور مجھے قسمت لے گئی پینجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ کمیونیکیشن اسڈیز میں جہاں سے میں نے ایم -ایس فلم اینڈ ٹی وی میں کیا
چودہ اگست کی بات چل نکلی ہے تو میں چودہ اگست 2011 کو صبح اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر اندرون لاہور کا رخ کیا جہاں پر ناشتہ کرنے کے بعد میں نے کچھ تصاویر بناہیں جو کہ اپکو دیکھانی ضروری ہیں ۔
آزادی ہم سال میں ایک دفعہ مناتے ہیں مگر یہ پرندے روزانہ – یہ تصویر صبح 8 بجے لیکتے اور بندر کی یہ تصویر بھاٹی گیٹ کے پاس ایک گلی میں لینائی ناخن کاٹنے میں محو ہے اور کٹوانے والا یوں دیکھ رہا ہے کہیں انگلی نہ کٹ جائے – یہ تصویر دہلی گیٹ کے پاس لی
مینار پاکستان کا منظر قابل دید تھا – رات بارش ہوئی تھی اور مینار پاکستان کا عکس پانی میں نمایاں تھا اور پرانے پاکستان کی اچھی بات یہ تھی کہ اس وقت لاہور میٹرو بس سے پاک تھا اور مینار پاکستان کو دور دور سے دیکھا جا سکتا تھا – چلیں چھوڑیں بھلا جگاڑی کا کیا واسطہ سیاست سے – اپکو ایک منظر دیکھاتا ہوں جو کہ پرانے پاکستان کے وقت لیا تھا- جب سوشل میڈیا اتنا عام نہیں تھا
بابو ایسے منظر پرانے پاکستان میں ملا کرتے تھے ۔آسمان بھی ازاد تھا اور مینار پاکستان بھی
اس مینار کے نیچے پولیس والے نے ایک جوڑے کو پکڑ لیا – دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے بعد میں پتہ چلا دونوں میاں بیوی ہیں ۔ گجرانوالہ سے آئے تھے – اچھا ہوا نکاح نامہ لائے تھے ورنہ پولیس کی دیہاڑی بن جانی تھی اور مینار پاکستان خاموش رہا تھا ۔ جو قوم گونگی ہو اس کے مینار کیا بولیں گے – بھائی صاحب ہمارے پرانے پاکستان میں رشوت ٹھیک ٹھاک ہوتی تھی کیا آپ کے نئے پاکستان میں سب اچھا ہے ؟ یہ بھی بتا دیں کہ علامہ اقبال صاحب کا مزار پرانے پاکستان میں آئے گا یا نئے میں ؟ چلو رہنے دو – جس کو یہ نہ پتہ ہو کہ اس کا ووٹ کس پولنگ اسٹیشن میں تھا اس سے یہ سوال پوچھنا جرم ہے اور میں ایسے جرم کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا- چلیں یہ تصویر دیکھ لیں پھر اگے چلتے ہیں –
پرانے پاکستان میں بھی اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا – یہ برا سلوک کون کرتا ہے مجھے علم نہیں مگر ہماری ایک سکھ بھائی سے ملاقات ہوئی اس نے خوب عزت کی اور میں نے ایک تصویر کی فرمائش کی تو انہوں نے خوبصورت پوز دیا جو میرے کیمرے نے فٹ کر کے کیپچر کر لیا ۔ 7 سال ہو گئے سکھ بھائی کا نام بھول گیا مگر اس کی تصویر اپ دیکھ لیں۔
کیا خوبصورت لگ رہے ہیں سکھ بھائی
سچ پوچھیں تو انسان ہم اچھے ہو گئے تو مسلمان خود با خود
اچھے ہو جاہیں گے – میں زرا تصویر ڈھونڈ لوں ۔
میرے بلاگ کے بارے میں یارو رائے دیتے رہنا-
لو جی تصویر مل گئی-
مینار پاکستان سے گوردوارہ ڈیہرا صاحب کمال نظر آرہا تھا
مینار پاکستان نے آج سوچا ہو گا کہ نیا پاکستان مجھے اپنے حصے میں کرے گا یا پرانا پاکستان ۔مگر سننے میں آیا ہے کہ کوئی مینار پاکستان کو اپنے حصے میں شامل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ہمیں کیا اس بت سے ؟ سچ میں یہ ایک بت کے سوا کچھ نہیں
واپسی پر میں پریشان تھا کہ اب لاہور کو چھوڑ کر چلا جاوں گا مگر میں نے ایک تصویر ایسی بنائی جو آج بھی مجھے یاد کرواتی ہے کہ انسان کی عادات جانوروں اور پرندوں میں کیسے آئیں -تصویر دیکھ لیجئے گا اور خود اس کو کیپشن بھی دے دیجئے گا ۔
انسان سے متاثر ہو کر پرندوں اور جانورں کی عادات
سچ پوچھیں تو ہم اصل والا پاکستان بیچ ائے ہیں – اب تو بس خانہ پوری ہے جو پاکستان کو بھی ایک امید دلا رہے ہیں ” جیوے جیوے پاکستان ” ۔ کیا یہ ملی نغمے ہم کو یہ درس دیتے ہیں کہ کسی بے گناہ کی بیٹی کو زندہ جلا دو۔ کیا یہ الفاط کی حد تک رہ گئے ہیں – ہم پاکستان کو حاصل کرتے – نیا اور پرانا نوٹ ہوتا ہے ملک نہیں ۔ ماں بھی بھلا کبھی پرانی ہوئی ہے – دھرتی ماں ہوتی ہے – سوچئے گا ضرور – نیا پاکستان والوں کو جشن ازادی مبارل –